Posts

"Tick_tuckers_and_our_faith "

 The #Minar_Pakistan tragedy deserves less condemnation ...  The girl was doing obscene things, but where did your training go?  Don't you know how ugly it is to touch a non-woman without a legitimate excuse?  Your current entertainment has brought nothing but humiliation ...  You have humiliated not only yourself but also the country and the nation.  Ever wondered what Islamic law teaches in this regard?  Please see:  Allaah says (interpretation of the meaning):   💖 "And do not approach adultery. Indeed, it is an obscene act and a very bad way."  (Al-Isra ': 32).  Consider how Allaah forbade adultery, which is more eloquent than a single act, because it would have included all the causes of adultery.  Are  See Tafseer al-Saadi, p. 742).  💖 "It is better for one of you to drive a nail into the head than to touch a non-mahram woman." (Sahih Al-Jami ': 5045)  I think that is enough.  Now let's move on to the...

#"ٹک_ٹوکرز_اور_ہمارا_ایمان "

  #مینار_پاکستان والے سانحہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔۔۔ لڑکی بھلے اوباش حرکتیں کیے جا رہی تھی مگر آپ کی تربیت کہاں پر جا سوئی۔؟؟  کیا آپ کو علم نہیں ہے کہ غیر عورت کو بنا کسی شرعی عذر کے چھونا کس قدر قبیح  گناہ  ہے۔۔ آپ کی اس وقتی تفریح نے سوائے ذلت کے اور کچھ نہیں بٹورا۔۔۔ آپ نے ناصرف خود کو   بلکہ ملک و قوم کو ذلیل کرکے رکھ دیا ہے۔۔۔ کبھی سوچا ہے کہ شریعتِ اسلامیہ اس حوالے سے کیا درس دیتی ہے۔؟ ملاحظہ فرمائیں: اللہ سبحانہ وتعالی نے فرمایا ہے :   💖"اور زنا کے قریب بھی نہ پھٹکو بلاشبہ وہ فحش کام اوربہت برا راستہ ہے۔"  (الاسراء: 32 ) ۔  تو آپ ذرا غور کریں کہ اللہ تعالی نے کس طرح زنا کے قریب جانے سے بھی منع فرمایا ہے جوکہ مجرد فعل سے بھی زيادہ بلیغ ہے اس لیے کہ اس میں ( یعنی قریب جانے سے روکنے میں ) زنا کے سب مقدمات و اسباب ودواعی شامل ہوجاتے ہیں ۔ دیکھیں تفسیر السعدی ص:742 ) ۔  💖"تم میں سے کسی شخص کے سر میں کیل ٹھونک دی جائے ، یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی غیر محرم عورت کو ہاتھ لگائے۔"( صحیح الجامع:5045) میرے خیال میں یہی فرما...

حوا کی بیٹی کی عزت

 #copied مدد چاہتی ہے یہ حّوا کی بیٹی  یہ شرم ناک سانحہ اس چودہ اگست کو مینار پاکستان کی چھاؤں میں ایک پاکستانی ٹک ٹاکر لڑکی کے ساتھ پیش آیا جو ٹک ٹاک بنا رہی تھی  جس نے پورے کپڑے پہن رکھے تھے پھر بھی منٹو پارک میں موجود ہزاروں پاکستانی نوجوان اُس لڑکی پر یوں جھپٹے گویا کُتا کھلے گوشت پر جھپٹنا ہے  پھر کیا تھا حوّا کی ہم جنس کے کپڑے پھاڑ کر برہنہ کر ڈالا  وہ ننگی آزاد پاکستانی لڑکی چیختی چلاتی رہ گئی مگر آدم کے بیٹوں نے مینار پاکستان کے سائے میں اس کا وہ حشر کیا کہ سن سنتالیس میں عزتیں لوٹنے والے ہندوؤں کی آتما شرمندہ ہوگئی تب ہندو نے مسلمان بچیوں کو بے آبرو کیا تھا آج پاکستانی غیرت مند اُس روایت کو جاری رکھے ہوئے ہیں  جی ہاں یہ واقعہ چودہ اگست دو ہزار اکیس کو لاہور کے اقبال پارک میں پیش آیا  میں پچھلے تیس سال میں ایسے تین واقعات کا چشم دید گواہ ہوں مگر وہ رپورٹ نہیں ہوئے  آج منٹو کا پہلا افسانہ “کھول دو “ یاد آگیا جو تقسیم کے وقت کی ایک کہانی تھی جس میں ایک محاجر باپ سراج دیں اپنی بیٹی سکینہ کو محاجر کیمپ میں تلاش کرتا پھر رہا تھا...

زہرا یعقوب کی کہانی

 زہرہ یعقوب: لاہور کی سوشل میڈیا انفلوئنسر جن کی بیماری کا ڈاکٹروں نے بھی مذاق اُڑایا زہرہ وہ پیدا ہوئیں تو اُن کی ٹانگوں کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں۔ ڈاکٹر جوڑتے تھے مگر وہ ہلکے سے دباؤ سے ہی دوبارہ ٹوٹ جاتی تھیں۔ زہرہ یعقوب کی زندگی کے ابتدائی دن کچھ اسی تکلیف اور اذیت میں گزرے۔ پھر ڈاکٹروں نے اُن کی والدہ کو بتا دیا کہ اس بچی کی ہڈیاں انتہائی کمزور ہیں اور یہ کہ شاید وہ زیادہ عرصہ زندہ نہ رہ پائیں۔ سال گزرتے گئے، زہرہ ذہنی طور پر تو بڑی ہوتی گئیں لیکن اُن کے جسم کی نشوونما عمر کے مطابق نہیں ہو رہی تھی۔ کوئی پیار سے انھیں اٹھا کر کھڑا کرنے کی کوشش کرتا تھا اور وہ اپنی ٹانگوں پر دباؤ دیتی تھیں اور ان کی ٹانگ کی کوئی نہ کوئی ہڈی ٹوٹ جاتی تھی۔ زہرہ کی والدہ فوراً انھیں لے کر ہسپتال کی طرف دوڑ پڑتیں۔ ڈاکٹر ہڈی جوڑ دیتے اور انھیں وقتی طور پر آرام آ جاتا۔ تاہم ڈاکٹروں کے پاس ایسا کوئی علاج نہیں تھا کہ وہ زہرہ کی ہڈیاں مستقل طور پر ٹوٹنے سے بچا پائیں۔ ان کی والدہ کھل کر نہیں بتا پاتیں تاہم انھوں نے جو علامات بتائیں اور جو ڈاکٹروں سے انھیں معلوم ہوا تھا کہ اس کے مطابق زہرہ کو ایک جینیاتی بیم...

ابلیس کا بہکاوہ

 ایک درویش وضو کر رہے تھے تو وہاں ایک بڑے  درویش آ گئے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیا کر رہے ہو ؟ پہلے بزرگ نے کہا کہ میں وضو کر رہا ہوں ۔ "کیوں وضو کر رہے ہو ؟"  " نماز پڑھنے کے لئے ۔"  "کس کی نماز ؟ "  اس نے کہا "اللّہ کی" ۔ " اللّہ کدھر ہے ؟ "کہتا ہے ادھر ہی ہے ۔    پھر اس درویش نے کہا کہ میں آپ کے گاوٴں میں پہلی دفعہ آیا ہوں ، مجھے تو دکھاوٴ  کہ اللّہ کدھر ہے ۔ کہتا ہے میں نے تو اللّہ نہیں دیکھا کہ اللّہ کدھر ہے ۔۔۔    درویش نے کہا پھر تو نے کس طرح اللّہ کو مان لیا ۔۔؟  کہتا ہے ابا حضور  نے کہا تھا  ۔ درویش نے کہا اللّہ کون ہے  ؟ "     کہتا ہے کہ اللّہ خالق ہے ہر شے کا ،  اور ہر چیز کا اسے علم ہے ۔ اور ہر چیز اس کے ماتحت ہے ۔ درویش نے کہا کہ شیطان تو اس کے ماتحت نہیں ہے ۔ کہتا ہے " جی ہاں کچھ باتیں ماتحت نہیں ہیں ۔"  اس طرح آنے والے درویش نے اس شخص کے دل میں بڑی بد دلی اور شک پیدا کر دیا  ۔ پھر درویش نے کہا کہ دراصل خدا نہیں ہے بلکہ یہ سب کاروبار خودبخود چل رہا ہے ۔   آخرکار ...

ہاں وہ اک شخص

 ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ______!! ﺟﺲ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺘﯿﮟ ، ﭼﺎﮨﺘﯿﮟ ، ﻋﻨﺎئیتیں؛  ﺑﺎﺭﺵ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺑﺮﺳﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ؛ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ______!! ﺟﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﺭﻭﺡ ﻣﯿﮟ ﺍُﺗﺮ ﮐﺮ؛   ﻣﺠﮫ ﻣﯿﮟ ﺟﺰﺏ ﮨﻮﮐﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺘﺎﻉ ﺟﺎﻥ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ؛ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ____!! ﺍﮐﺜﺮ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ؛  ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﮨﻮﮞ ﺍُﺱ ﮐﯽ؛ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ____!! ﺟﺲ ﮐﯽ ﺍﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﯿﮯ؛  ﺑﮯﭘﻨﺎﮦ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﻭﺭ ﻋﺰﺕ ﺩﮐﮭﺎئی ﺩﯾﺘﯽ ﺗﮭﯽ؛ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ____!!  ﺟﺲ ﮐﻮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮔﮩﺮﺍ ﻋﺸﻖ ﺗﮭﺎ؛ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ____!! ﺟﺲ ﮐﻮ ﯾﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﺷﺪﺕ ﺳﮯ ﮐﺮ تھا؛  ﺗﻮ ﺑﮯﭼﯿﻦ ﻭﮦ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ؛ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ___!! ﺟﻮ ﺭﺍﺯ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ؛  ﺣﺎﺻﻞِ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﯼ؛ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ___!! ﺟﻮ ﻟﻤﺤﮧ ﻟﻤﺤﮧ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺑﺎﺧﺒﺮ ﺭﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ؛ ﺟﺲ ﮐﻮ ﻓﮑﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﮨﺮ ﻟﻤﺤﮧ ﺭﮨﺘﯽتھی؛ ہاں ﻭﮨﯽ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ____!!  ﺍﺏ ﺑﻠﮑﻞ ﺑﮯﺧﺒﺮ ﮨﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ💔 🔥💥

قومی پرچم کی عظمت

 کل 14 اگست کی منائی گئی۔۔ کورونا کے مہیب سائے چاروں طرف لہرارہے اس کے باوجود قوم 14 اگست شاندار طریقےسے منائے گئی۔۔۔۔۔۔ سر اٹھا کے ۔۔۔۔اور پھر آج بھی 14 اگست منائی گئی سر جھکا کے۔۔۔۔۔کیسے ؟      ناراض نہ ہوں ۔۔۔۔ آج 15 اگست کو زمین پر گرے ہوئے پرچم اٹھاتے ہوئے 14اگست منائیے۔۔۔۔ آج پرچم کے آداب ریمائنڈ کرتے ہیں اس پرچم کے احترام کے بھی کچھ تقاضے ہوتے ہیں جن کو پورا کرنا ہمارا قومی فریضہ ہے ۔۔۔۔ جیسے کہ اس بات کا خیال رکھنا کہ قومی پرچم کسی کے پیروں تلے نہ آئے یا زمین پر نہ گرے۔۔۔۔۔۔۔  اندھیرا ہونے کے بعد پرچم نہیں لہرایا جاتا۔۔۔۔۔۔  قومی پرچم سحر کے وقت لہرایا جاتا ہے۔۔۔۔۔جو کہ عروج کی نشانی ہے اور شام کو اتار لیا جاتا ہے کیونکہ اندھیرا زوال کی نشانی گردانا جاتا ہے ۔۔۔۔۔ مگر افسوس کہ قومی ایام کے موقعوں پر ہم اس سبز ہلالی پرچم کی بے حرمتی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ بظاہر گھروں اور بازاروں میں جھنڈیاں لگا کر وطن سے محبت کا پرچار کرتے ہیں مگرسڑکوں پر اکثر یہ جھنڈیاں روندی جا رہی ہوتی ہیں اور گھروں سے پرچموں کو اس وقت تک نہیں اتارا جاتا جب تک اس کا کپڑا مکمل شہید ...